جنید جمشید - اے ہارٹ تھروب

قارئینِ محترم: جنید جمشید کی ناگہانی جدائی کے بعد ان پر بہت کچھ لکھا اور کہا جائے گا لیکن وہ بات جس کی وجہ سے میرے دل میں جنید بھائی کی بہت قدر ہہے، میں آج وہ بات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا۔ انیس سو اسی (1980) کی دہائی کا پاکستان ایک خوبصورت سوچ اور دردِ دل رکھنے والے لوگوں کا پاکستان تھا، یہ تب کی بات ہے جب ابھی ہم اس قدر سنگدل نہیں ہوئے تھے جیسے کہ اب ہو گئے ہیں۔ اس دور کے ادیب، مصور، اداکار، گلوکار، موسیقار، شاعر، ڈرامہ نگار، الغرض فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے دیگر لوگ آج بھی مقبول ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب لوگ صحیح معنوں میں آزاد تھے، جب لوگ وہی کچھ کرتے تھے جو وہ کرنا چاہتے تھے۔ جنید جمشید نے مشہور زمانہ تعلیمی ادارے انجینئرنگ اینڈ ٹکلنالوجی یونیورسٹی لاہور سے اپنی تعلیم مکمل کی اور پاکستان ائرفورس کے ساتھ بطور سول کانٹریکٹر کام کرنے لگے۔ لیکن جلد ہی موسیقی کا جنون سر پر سوار ہو گیا اور ایک تابناک کیریر کو خیر آباد کہہ کر موسیقی کی دنیا کی طرف چل پڑے اور ''وائٹل سائنز'' کے نام سے برصغیر پاک و ہند کا پہلا پاپ بینڈ بنا ڈلا۔ دنیا بھر میں ان کی پہچان 14 اگست 1987 کو ریلیز ہونے والا گانا ''دل دل پاکستان'' بنا ۔۔۔۔ جس نے ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ان کو مشہور و معروف کر دیا۔ وہ خوش گلو تو تھے ہی، خوش شکل بھی کم نہ تھے۔ زمانہ ان کا معترف تھا۔ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور اچھی قسمت کی منہ زوری کے بل پر چند ہی سالوں میں شہرت کے اس مقام پر پہنچ گئے کہ جس کی تمنا تو ہر کوئی کرتا ہے مگر ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ قارئین کرام: قصہ مختصر، جنید جمشید نوجوان دلوں کی دھڑکن بن چکے تھے، پاکستان اور دنیا بھر میں ہر ہفتے شوز کرتے تھے، لوگ ان کے دیوانے تھے۔ وہ نوجوان نسل کے ہیرو بن چکے تھے۔ ان کا نام پرفارمنگ آرٹ میں برانڈ کی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ نوجوان ان کے پہناوے اور سٹائل کے دیوانے تھے۔ بلاشبہ جنید جمشید اسی اور نوے کی دہائی کے نوجوانوں کا ہارٹ تھروب بن چکا تھا لیکن کہانی میں موڑ تب آتا ہے جب نوے کی دہائی کے اواخر میں جنید جمشید سب کچھ چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ نام، وہ شہرت، وہ فیم، ہر چیز چھوڑ دی، موسیقی کو خیر آباد کہہ دیا اور دین کے راستے پر چل پڑے۔ اللہ نے ان کو آزمائش میں ڈالنے کے لیے مالی مشکلات میں ڈال دیا، وہ بہت ڈیپریس رہنے لگے، یہاں تک کہ قریبی دوستوں کی مدد سے وہ موسیقی سے ہٹ کر کھڈی کی ایک دکان ''جے ڈاٹ'' کھولنے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ موسیقی کے علاوہ ان کا کوئی بھی ذریعہ معاش نہ تھا۔ کچھ لوگ یہاں تک کہتے ہیں کہ انھوں نے انجئینرنگ کی ڈگری کی بنیاد پر نوکری حاصل کرنے کی بھی بہت کوشش کی چونکہ ڈگری پندرہ سال پہلے لی تھی اور اس کے بعد چھ مہینے کے علاوہ اور کوئی تجربہ بھی نہیں تھا تو اس میں بھی ناکام رہے۔ میرے نذدیک جنید جمشید کا ایک فقرہ اس کی ساری زندگی پر حاوی ہے۔ دوستو: یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں۔ شہرت اور فیم کی بلندی سے یوں خود کو گرانا بہت بڑی آزمائش ہے، سب دنیاوی چیزیں چھوڑ کر اللہ کے لیے زندگی جینا اتنا آسان نہیں ہے۔ یہ بہت مشکل راستے ہیں، بڑوں بڑوں کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔۔ بس اللہ کی عنایت اور کرم ہوتا ہے کہ وہ جس کو ثابت قدم رکھے۔ بقول شاعر، یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے، یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔ 2007 میں جب جنید کے پرانے دوست شعیب منصور نے فلم ''خدا کے لیے'' بنانے کا فیصلہ کیا تو اس میں جنید جمشید کو کام کرنے کی آفر کی، جس کو پہلے جنید نے قبول کر لیا اور شعیب منصور فلم کے دوسرے امور میں مصروف ہو گئے۔ ایک شام جنید جمشید فلم ساز شعیب منصور کے گھر پہنچے اور یہ بول کر فلم میں کام کرنے سے انکار کر دیا کہ ''وہ لوگ جو میری پیروی کرتے ہیں، وہ کیا سمجھیں گے کہ حالات کے سامنے میرے قدم ڈگمگا گئے ؟ اور دین کا یہ سفر بس ایک فیز تھا جو آیا اور گزر گیا؟ '' یہ بات کہہ کر جنید نے انکار کر دیا۔ یہ سب جان کر میں اس سوچ میں پڑ گیا کہ اللہ والے کہتے ہیں کہ اللہ بڑے بڑے ولیوں کی بھی عبادت منہ پر مار دے گا، وہ رب کی ذات تو بس کسی ایک لمحے، ایک خیال، ایک معصوم سی سوچ پر بھی انسان کو بخش دے گا۔ شاید یہی وہ فیصلہ، یہی وہ نیت تھی جو شاید جنید بھائی کی بخشش کا ذریعہ بن جائے کیونکہ میرا اللہ بدنیت نمازوں اور فاقہ کش روزوں والی بے جان عبادتوں کا محتاج نہیں ہے وہ تو شاید انسان کو کسی ایک لمحے پر بخش دے یا پکڑ لے۔ کون جانتا ہے اللہ جنید بھائی کی ان قربانیوں کو قبول فرمائے اور ہم سب کو ان کی طرح دین کے راستے کا مسافر بنائے۔ آمین تحریر: عاشورعاصم
Previous
Next Post »